بنگلورو، 5؍فروری (ایس او نیوز) اُڈپی ضلع کے ایک کالج کی طرف سے کلاس رومز کے اندر حجاب پہننے والی طالبات کو اجازت نہ دینے کا فیصلہ کی خبریں میڈیا میں آنے کے بعد سے ہی ٹوئٹر پر ’حجاب ہمارا حق ہے‘ کا ٹرینڈ چل رہا ہے ٹوئٹر صارفین نے اُڈپی کی ان لڑکیوں کی حالت زار پر روشنی ڈالی جو اپنی آزادیٔ انتخاب پر عمل کرنے کے حق کے لیے لڑ رہی ہیں۔
جیسے ہی ہیش ٹیگ ’حجاب ہمارا حق ہے،ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنے لگا، اُسی کے ساتھ سوشل میڈیا پر ان طالبات کو ہراساں کیے جانے کی سخت مذمت کی گئی۔ اسکول کے پرنسپل کی جانب سے لڑکیوں کو باہر کرتے ہوئے اسکول کے دروازے بند کرنے کی ویڈیو پربھی سوشیل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور زیادہ تر لوگ طالبات کی حمایت میں اپنی آواز بلند کررہے ہیں۔
سوشیل میڈیا پرایک صارف نے لکھا کہ طالبان لڑکیوں کو اسکولوں اور کالجوں میں جانے کی اجازت نہیں دیتے، مگر ہندوستان میں سنگھی نسل کشی کرنے والے سر پر اسکارف پہنی مسلم لڑکیوں کو اسکولوں اور کالجوں میں داخل ہونے سے روکنے میں لگے ہیں۔ وہ پڑھی لکھی مسلم خواتین سے خوفزدہ ہیں، اِن تعلیم یافتہ مسلم خواتین سے انھیں بہت ڈر لگتا ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ واقعی ہمیں حیران کر دیا، کیونکہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کے شہریوں کو بھی اس قسم کی صورتحال کا سامنا ہے، یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ایک دوسرے صارف نے لکھا کہ’’آئیے !ہم سب اپنی بہنوں کے حقوق کے لیے کھڑے ہو جائیں،اس امتیازی سلوک کی وجہ کیا ہے؟
انہیں کالجوں میں داخلے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی،صرف اس لیے کہ وہ حجاب پہنتی ہیں، یہ اسکول سے باہر کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے، یہ سراسر زیادتی ہے۔ایک دوسرے صارف نے لکھا کہ’ اسلام میں حجاب پہننے پر زور دیا گیا ہے لہٰذا کرناٹک حکومت کی طرف سے ہندوستانی آئین کے دفعہ 25 کی خلاف ورزی ہندوستان کے آئین سے ان کی لاپرواہی کو ظاہر کرتی ہے۔
واضح رہے کہ حجاب دنیا بھر میں اسلامی تعلیمات اور مسلم تہذیب کا اٹوٹ حصہ ہے۔ دنیا کے تمام ممالک میں بیشتر مسلم خواتین حجاب کرتی ہیں۔ اس کے باوجود حجاب کو عالمی سطح پر متنازعہ موضوع بنایا جارہا ہے۔
کئی مسلم خواتین کو خدشہ ہے کہ انھیں جب چاہیں حجاب پہننے کے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ وہ ان کا حق انتخاب رائٹ ٹو چوائس ہے، جسے وہ خود پسند کرتی ہے۔